Orhan

Add To collaction

جس تن نوں لگدی او تن جانڈے

جس تن نوں لگدی او تن جانڈے از دیا مغل قسط نمبر13

ولید کو گئے 15 دن ہو چکے تھے ۔۔۔۔ زجاجہ کو امید تھی کہ آج ولید اپنے واپس آنے کا ضرور بتا دے گا ۔۔۔۔ وہ بہت خوش تھی ۔۔۔۔ سکول پہنچ کر اسے وہ بزی ہو گی لیکن اس کا دھیان ولید کی طرف ہی رہا ۔۔۔ بار بار فون دیکھتی ۔۔۔۔۔۔ اس نے بہانے سے ایک بار میم کے آفس کا چکر بھی لگایا لیکن ادھر سے بھی کوئی خبر نہ ملی ۔۔۔۔ "سر کب واپس آ رہے ہیں ؟" آخر اس نے ماریہ سے پوچھ ہی لیا ۔۔ "آنا تو چاہئے اب ان کو ۔۔۔ پتا نہیں کیوں لیٹ ہیں اس بار " ماریہ نے بھی لاعلمی کا اظہار کیا ۔۔۔ آج ولید رپلائی بھی نہیں کر رہا تھا ۔۔۔۔ زجاجہ کو عجیب عجیب خیال آ رہے تھے ۔۔۔ " کس سے پوچھوں۔۔۔۔ کس کو بتاؤں"۔۔۔ وہ بہت پریشان ہو رہی تھی ۔۔۔۔ اس سے سکول میں ٹائم گزارنا مشکل ہو رہا تھا ۔۔۔ اس نے چھٹی لی اور یونی آ گئی ۔۔۔ "بیا میرا دل بہت گھبرا رہا ہے ۔۔۔ آج تک ایسا نہیں ہوا کہ وہ مجھے میسج رپلائی نہ کریں " زجاجہ رو دینے کو تھی ۔۔۔ "یار ڈونٹ بی سلی ۔۔۔ بزی ہوں گے ۔۔۔ اب ہر وقت بندہ available ہو ، ضروری تو نہیں ہے نا " بیا نے اسے ریلیکس کرنے کی۔کوشش کی ۔ "کیوں نہ ہو ۔۔۔ میں بزی نہیں ہوں کیا ۔۔۔ میں تو کبھی ایسا نہیں کرتی " زجاجہ کو غصہ آ گیا "مس زجاجہ آپ بھول رہی ہیں کہ آپ ایک ٹیچر اور وہ ایک ہوٹل چین کا اونر ہے ۔۔۔۔ زمین آسمان کا فرق ہے مصروفیت میں " بیا نے ایک ایک لفظ پر زور دیا۔۔۔ " اچھا ریلیکس ۔۔۔آؤ وقاص اور حیدر کو دیکھتے ہیں " ۔۔۔ ۔ دونوں اٹھ کر انگلش ڈیپارٹمنٹ کی طرف چل پڑیں ۔۔۔ "حیدر کدھر ہو تم لوگ " بیا نے حیدر کو کال کر کے پوچھا " میں اور زجی بھی ادھر ہی آ رہی ہیں ۔۔۔ آ جانا تم لوگ بھی " "تم چل کے کیفے میں بیٹھو ۔۔۔ میں فروا سے مل کے آئی بس " بیا نے زجاجہ کو اپنی بکس پکڑاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ زجاجہ آہستہ آہستہ چلتی کیفے آ گئی ۔۔۔ اس وقت اکا دکا سٹوڈنٹس تھے ۔۔۔ زیادہ تر کی کلاسز ہو رہی تھیں ۔۔۔ زجاجہ کی نظر بے اختیار ہی اس ٹیبل پر پڑی جہاں ایک دن ولید مونا کے ساتھ بیٹھا تھا ۔۔۔۔ اس کا شدت سے دل چاہا کہ ولید سامنے ہو۔۔۔۔ "پلیز ولی ۔۔۔ آ جائیں ۔۔۔۔" دو آنسو پلکوں کی باڑ توڑ کر اس کے گالوں پر بہہ گئے ۔۔۔۔ "اللہ پاک پلیز ولی میرے سامنے لے آئیں "۔۔۔ وہ ضبط کھو رہی تھی ۔۔۔ دل تھا کہ سنبھل ہی نہیں رہا تھا ۔۔۔۔۔ صبح سے شام ہونے کو آئی تھی ۔۔۔ولید کا کوئی ایک میسج نہیں آیا تھا ۔۔۔ "تم کیوں چاہتی ہو زجاجہ کہ میری عمر کم ہو جائے " کوئی اس کے بلکل کان کے قریب آ کر بولا ۔۔۔۔ وہ کرنٹ کھا کر پیچھے مڑی ۔۔۔ سامنے وہ دشمن جان سینے پہ ہاتھ باندھے کھڑا مسکرا رہا تھا ۔۔۔۔ "ولی آ۔۔۔ آپ " زجاجہ کو لگا وہ خواب میں ہے ۔۔۔۔ اس کی زبان سے لفظ ادا نہیں ہو رہے تھے ۔۔۔ "آپ کب آئے " "جی میں ۔۔۔۔ دن کو آیا ہوں " وہ بہت پرسکون لہجے میں بولا ۔۔۔ "چلو آؤ ۔۔۔۔چلتے ہیں۔۔۔ گھر ڈراپ کر دوں گا " "میں بیا کو بتا لوں۔۔۔۔ " وہ ابھی تک بےیقینی کی کیفیت میں تھی ۔۔۔۔۔۔ اس نے بیا کو کال کر کے بتایا کہ وہ جا رہی ہے ۔۔۔ اس کے ایک ایک انداز سے بےپناہ خوشی چھلک رہی تھی ۔۔۔۔ ولید اس کی حالت کو انجوائے کر رہا تھا ۔۔۔ "آپ نے بتایا کیوں نہیں مجھے " گاڑی میں بیٹھتے ساتھ اس نے شکوہ کیا ۔۔۔ "تمہارا انتظار دیکھنا چاہتا تھا " ولید اس کی طرف دیکھ کر مسکرایا ۔۔۔ "تم سچ میں جھلی ہو " "آپ سوچ نہیں سکتے میرا دل کتنا گھبرا رہا تھا ۔۔۔ عجیب عجیب خیال آ رہے تھے مجھے " زجاجہ اسے اپنی حالت بتاتے ہوئے پھر روہانسی ہو گئی "سوری یار ۔۔۔ بس ویسے ہی شرارت کرنے کا دل کیا " وہ شرمندہ ہوا "بیا سے کہا کہ تمہیں کیفے لے کے جائے" "وہاٹ ؟؟؟ بیا کو پتا تھا؟؟؟ " زجاجہ کی آنکھیں پھیلیں ۔۔۔ "یس مائی لیڈی " "بہت برے ہیں آپ ۔۔۔۔ اتنا پریشان کیا مجھے " زجاجہ منہ بنا کر بولی ۔۔۔ "اچھا بابا سوری ۔۔۔۔اب آ گیا ہوں نا ۔۔۔۔ تمہارے حوالے ہوں ۔۔۔ جو مرضی سزا دو ۔۔۔ بندہ حاضر ہے " وہ سر جھکاتے ہوئے بولا تو زجاجہ ہنس پڑی ۔۔۔۔۔ گھر کے باہر اترتے ہوۓ اس نے ولید کو اندر آنے کو کہا تو اس نے پھر آنے کا وعدہ کر لیا ۔۔۔ "زجاجہ تھینکس ۔۔۔ تم نے عبایہ پہن کر میری بات کا مان رکھا " زجاجہ اتر رہی تھی کہ ولید کی آواز آئی ۔۔۔ وہ صرف مسکرا ہی سکی ۔۔۔۔ " تجھ سے محبت ہے مجھے ، تجھ پر شک نہیں تجھے کوئی اور دیکھے ، کسی کو حق نہیں " یہ کہہ کر اس نے گاڑی آگے بڑھا دی ۔۔۔ زجاجہ نے دور ہوتی گاڑی کو دیکھا اور مسکرا کر گیٹ عبور کر گئی ۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زندگی پھر سے پر سکون ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔ راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا ۔۔۔۔ ولید کے آس پاس ہونے کا احساس زجاجہ کو پرسکون رکھتا ۔۔۔۔ آج بیا یونی نہیں آ رہی تھی ۔۔۔۔ ثنا پہلے ہی تین دن کی چھٹی پہ تھی ۔۔۔۔ حیدر اور وقاص کلاس میں بزی تھے ۔۔۔۔ وہ کلاس لے کے نکلی تو سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ کیا کرے ۔۔ "دونوں بدتمیزوں کو ایک ساتھ موت آنی تھی " اس نے جل کر سوچا اور کیفے کی طرف چل دی ۔۔۔۔ "زجاجہ ۔۔۔۔ رکو " دور سے آواز آئی ۔۔۔۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو رضا اپنی طرف آتا نظر آیا ۔۔۔ "اکیلی کیوں آج ۔۔۔۔ بدمعاش کمپنی کدھر ہے " اس کا اپنا ہی انداز تھا ۔۔۔ زجاجہ کھل کے ہنسی ۔۔ "دونوں ذلیل چھٹی پہ ہیں " زجاجہ نے بھی ویسا ہی جواب دیا ۔۔۔ "تم سناؤ ۔۔۔ آج ادھر کیوں ۔۔۔۔۔ " "حیدر سے ملنا تھا یار ۔۔۔ کام تھا ایک " رضا اسے چیونگم پکڑاتے ہوۓ بولا "ہممم ۔۔۔۔ کیا کر رہے ہو آج کل " زجاجہ اس کے ساتھ آہستہ آہستہ چلنے لگی "جاب ۔۔۔ کام اور ہاسٹل بس " رضا آج کچھ سنجیدہ تھا "زندگی اتنی ہی رہ گئی ہے " "کیا ہوا رضا ۔۔۔ سب ٹھیک ہے نا " وہ چلتے چلتے رکی "اب مزید خراب نہیں ہو سکتا کچھ بھی اس لئے سب ٹھیک ہے " وہ مسکرایا " زندگی مشینی ہو گئی ہے زجی ۔۔۔۔ دن رات کام ۔۔۔ ایک وقت تھا جب میں لوگوں کے پیچھے پھرتا تھا کام لینے کے لئے ۔۔۔ اور آج لوگ میرے پیچھے پھرتے ہیں۔۔۔۔ پیسہ ، ریپو ، عزت سب ہے ۔۔۔ پھر بھی سکون نہیں ہے یار ۔۔۔۔" وہ بولتا چلا گیا "تب لگتا تھا یہی سب ضروری ہیں اور اب لگتا ہے یہی تو غیرضروری ہیں ۔۔۔۔ سمجھ نہیں پا رہا میں کچھ بھی " زجاجہ کو لگا وہ رضا سے نہیں کسی اور سے بات کر رہی ہے ۔۔۔۔ یہ وہ رضا تو نہیں ہے جسے وہ جانتی تھی ۔۔۔۔ یہ تو کوئی اور تھا ۔۔۔۔ "یو نو زجی ۔۔۔۔ ثنا اور حیدر نے اس وقت میرا ساتھ دیا جب میں اکیلا تھا ۔۔۔ ان دونوں نے مجھے حوصلہ دیا ۔۔۔ ہمت دی ۔۔۔ آج اگر میں جو بھی تھوڑا بہت کامیاب ہوں نا الله پاک کے بعد ان دونوں کی وجہ سے ہوں ۔۔۔۔ " رضا کی آنکھیں چمک رہی تھیں ۔۔۔ "تم سیلف میڈ ہو رضا ۔۔۔۔ مجھے یقین ہے بہت آگے جاؤ گے ۔۔۔۔ ثنا واقعی تمہارے ساتھ بہت sincere ہے ۔۔۔۔ ہم سب تمہارے ساتھ ہیں ۔۔۔۔ تم جب چاہو ہمیں بلا سکتے ہو " زجاجہ نے اسے یقین دلایا ۔۔۔۔ وہ ہلکا سا مسکرایا اور " چلتا ہوں" کہہ کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا چلا گیا ۔۔۔۔ زجاجہ نے اسے ایک نظر جاتے دیکھا اور سر جھٹک کر ڈیپارٹمنٹ کی طرف آ گئی ۔۔۔ . . . . . . . . . . . . . .. . . . . . . . . . . . . . . . . . . سب معمول پہ تھا۔۔۔۔ لیکن پھر بھی کچھ ایسا تھا جو معمول سے ہٹ کر تھا ۔۔۔۔ جو محسوس تو ہو رہا تھا لیکن نہ دکھائی دے رہا تھا نہ سمجھ آ رہا تھا ۔۔۔۔ ولید کہیں بزی تھا ۔۔۔۔ اس کی کوئی میٹنگز چل رہی تھیں ۔۔۔۔۔ زجاجہ بھی اسے زیادہ تنگ نہیں کر رہی تھی ۔۔۔۔ دو دن سے ان کی کوئی خاص بات چیت بھی نہیں ہوئی تھی ۔۔۔۔ وہ اس کے فری ہونے ک انتظار میں تھی۔۔۔۔ وہ یونی سے لوٹی تو ماما نے شام کو مہمانوں کے آنے کی اطلاع دی ۔۔۔۔ اس کے بابا کے کوئی دوست آ رہے تھے ۔۔۔۔ وہ ماما کی مدد کے لیے کچن میں آ گئی ۔۔۔۔ بوا اور ماما رات ک کھانے کی۔تیاری میں مصروف تھیں ۔۔۔۔ "زجاجہ بیٹا ۔۔۔۔ مجھے لگتا ہے وہ اپنے بیٹے کے لئے آ رہے ہیں " ماما نے اپنا اندازہ ظاہر کیا ۔۔۔۔ زجاجہ کا گلاس کی طرف بڑھا ہوا ہاتھ رک گیا ۔۔۔۔ اس نے حیران ہو کر ماما کی طرف دیکھا ۔۔۔ "کیا مطلب ماما " "مطلب یہ کہ میری بیٹی بڑی ہو گئی ہے " انہوں نے پیار سے اس کا ہاتھ تھاما ۔۔۔ "پلیز ماما ۔۔۔ ۔ میں ایسا کچھ نہیں چاہتی " "مجھے کنفرم نہیں ہے یہ بات ابھی ۔۔۔۔ مگر اندازہ ہے ۔۔۔۔ تم ابھی سے پریشان مت ہو " انہوں نے اسے تسلی دی ۔۔ مگر ان کا اندازہ درست ثابت ہوا ۔۔۔۔ شیراز علی اپنے بیٹے کا رشتہ لے کر ہی آئے تھے ۔۔۔ ان کا بیٹا ریحان حال ہی میں باہر سے بزنس کی ڈگری لے کر لوٹا تھا ۔۔۔۔ اچھے کھاتے پیتے لوگ تھے ۔۔۔۔ سکندر صاحب کو بھلا کیا اعتراض ہو سکتا تھا ۔۔۔ ۔ پھر بھی انہیں نے وقت مانگا تھا ۔۔۔۔ "زجاجہ بیٹا مجھے اور آپ کی ماما کو تو کوئی ایسی بات نظر نہیں آتی جس کی بنیاد پر انکار کیا جائے اور مجھے یہ بھی یقین ہے کہ میری بیٹی کو بھی اعتراض نہیں ہو گا ۔۔۔۔ پھر بھی آپ سوچ لیں " انہوں نے اس کے قدموں میں اعتبار کی زنجیر ڈالتے ہوۓ کہا ۔۔۔۔ وہ خاموشی سے اٹھ کر اپنے کمرے میں آ گئی ۔۔۔ "ولی کو بتاتی ہوں ۔۔۔۔ اور کہتی ہوں کہ جلدی سے مما کو بھیج دیں" اس نے فورا ولی کو کال ملائی ۔۔۔ ۔ "ہاں زجی ۔۔۔ کیسی ہو " وہ شاید جلدی میں تھا "میں پریشان ہو گئی ہوں ولی ۔۔۔پلیز کچھ کریں " اس نے پوری بات بتاتے ہوئے کہا ۔۔۔ "تم بابا کی بات مان لو " ولید نے اس کے پاؤں کے نیچے سے گویا زمین ہی کھینچ لی تھی ۔۔

   0
0 Comments